مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، روسی وزیرِ توانائی سرگئی تسویلیف نے اس سوال کے جواب میں کہ آیا جمہوریہ آذربائیجان کی جانب سے اس وقت ترکی کو گیس برآمد کیے جانے کے پیش نظر، اس ملک کے ساتھ گیس کے سوآپ کے امکان کا جائزہ لینا زیرِ غور ہے یا نہیں؟ صحافیوں کو بتایا کہ روس، باکو اور ایران کے ساتھ گیس کے سوآپ کے انتظامات پر بات چیت کر رہا ہے۔
روسی وزیرِ توانائی نے مزید کہا کہ اس وقت اس موضوع پر بات چیت جاری ہے۔ ہم ان تمام ممالک کے درمیان تعاون چاہتے ہیں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، ایران کی جانب جانے والی گیس پائپ لائن جمہوریہ آذربائیجان کی سرزمین سے گزرتی ہے۔ ہم نے تینوں ممالک کے وزرائے توانائی کی شرکت سے ایک اجلاس منعقد کیا اور اتفاق کیا کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے، تاکہ باہمی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور تمام متعلقہ فریقوں کے مفادات کو مدنظر رکھا جائے۔
سرگئی تسویلیف نے مزید کہا کہ تمام فیصلے کیے جا چکے ہیں۔ ہم سب متفق ہیں؛ ہمارے ممالک کے رہنماؤں نے ہمیں یہ ذمہ داری سونپی ہے اور ہمیں اس کا حل تلاش کرنا ہے۔ اس سلسلے میں بعض مخصوص تکنیکی پہلو موجود ہیں جو خاصے پیچیدہ بھی ہیں، لیکن ہم انہیں حل کرنے کے لیے اپنی پوری کوشش کریں گے۔ متعلقہ کمپنیاں پہلے ہی اس معاملے پر کام کر رہی ہیں۔ روس کی جانب سے گازپروم کمپنی اس کی ذمہ دار ہے۔
آپ کا تبصرہ